دروازہ کھلا تم رکھ لینا اے ماں میں واپس آؤں گا
سپنے آنکھوں میں آئیں گے میری یاد کے بادل چھائیں گے
آنسو پلکوں میں آئیں گے
آنسو کو چھپا کر رکھ لینا اے ماں میں واپس آؤں گا
دروازہ کھلا تم رکھ لینا اے ماں میں واپس آؤں گا
دو دن کی یہ جوانی ہے یہ دنیا آنی جانی ہے
پھر موت تو اک دن آنی ہے
پھر جان بچا کر کیا رکھنا اے ماں میں واپس آؤں گا
وہ بھی تو کسے کے بیٹے ہیں جو کفر کے ظلم کو سہتے ہیں
زندانوں میں جو رہتے ہیں
کچھ ان کی دعا بھی کر لینا اے ماں میں واپس آؤں گا
جب مجھ کو شہادت مل جائے اور خبر تجھے جب مل جائے
سن کر دل تیرا ہل جائے
اس دل کو سنبھال کے رکھ لینا اے ماں میں لوٹ نہ پاؤں گا
دروازہ کھلا تم رکھ لینا اے ماں میں واپس آؤں گا
No comments:
Post a Comment