Kitab O Sunnat

Friday, March 19, 2010

ممبئی حملے: ڈیوڈ ہیڈلے نے اعترافِ جرم کر لیا
امریکی شہری داؤد گیلانی عرف ڈیوڈ ہیڈلے نے شکاگو کی ایک عدالت کے سامنے اعتراف کیا کہ انہوں نے ممبئی میں ہونے والے حملوں کے لیے ان جگہوں کے متعلق معلومات حاصل کی تھیں جنہیں منصوبے کے تحت نشانہ بنایا جانا تھا۔
ڈیوڈ ہیڈلے

ڈیوڈ ہیڈلے نے اپنا زیادہ تر بچپن پاکستان میں گزارہ ہے اور ان کا پہلے نام داؤد گیلانی تھا

انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ ڈینمارک کے اس اخبار پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے جس نے پیغمبرِ اسلام کے متعلق کارٹون شائع کر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا تھا۔

اس سے پہلے 49 سالہ ہیڈلے نے اپنے اوپر لگائے گئے انہی الزامات سے انکار کیا تھا جب ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی لیکن بعد میں وہ اس شرط پر اقرار جرم کرنے پر راضی ہوئے کہ انہیں ایسا کرنے پر نہ تو سزائے موت دی جائے گی اور نہ ہی بھارت، پاکستان یا ڈینمارک کے حوالے کیا جائے گا۔
ڈیوڈ ہیڈلے

* 1960 میں امریکہ میں پاکستانی باپ اور امریکی ماں کے ہاں پیدا ہوئے
* پاکستان میں زیادہ تر بچپن گزارہ
* اسلام آباد کے قریب ایک بورڈنگ سکول میں تعلیم حاصل کی
* 17 سال کی عمر میں سکول چھوڑ دیا
* ماں باپ کی طلاق کے بعد ماں کے پاس امریکہ چلے گئے
* 2006 میں اپنا نام بدل کر ڈیوڈ ہیڈلے رکھ لیا
* 2006 اور 2008 کے درمیان ممبئی کے چھ چکر لگائے
* ایف بی آئی کے مطابق انہوں نے کئی اہداف کی تصاویر اتاریں اور ویڈیو بنائیں۔ ان میں وہ مقامات بھی شامل ہیں جن کو 2008 میں نشانہ بنایا گیا
* 3 اکتوبر 2009 کو انہیں شکاگو کے ہوائی اڈے سے گرفتار کیا گیا

اپنا بیان بدل بدلنے کے بعد انہوں نے اپنے اوپر لگائے گئے بارہ الزامات تسلیم کیے ہیں۔

اس طرح استغاثہ اب زیادہ سخت سزا کی اپیل نہیں کرے گا لیکن امریکی ڈسٹرکٹ عدالت کے جج ہیری لینن ویبر کا کہنا ہے کہ ہیڈلے کو اب بھی عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے کہا کہ ہمارے پاس اس مقدمے میں نہ صرف اب اقبالِ جرم آ گیا ہے بلکہ ڈیوڈ ہیڈلے اب دہشت گردانہ کارروائیوں کے متعلق بہت کارآمد خفیہ معلومات بھی مہیا کر رہے ہیں۔

پروسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستانی نژاد امریکی شہری ہیڈلے نے اہداف کی جاسوسی کے لیے انڈیا اور ڈینمارک کے کئی دورے کیے تھے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق انہوں نے اکٹھی کی گئی معلومات پاکستان میں مقیم اسلامی شدت پسند تنظیم لشکرِ طیبہ کے رابطہ کاروں کے حوالے کی تھیں۔ لشکرِ طیبہ پر الزام ہے کہ ممبئی پر حملوں کے پیچھے اس کا ہاتھ تھا۔

ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں لشکر طیبہ کے ایک کمانڈر ذکی الرحمن لکھوی سمیت کئی ملزمان پاکستان میں گرفتار ہوئے ہیں جن پر انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں مقدمہ بھی چل رہا ہے۔

ہیڈلے کو اکتوبر میں ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے شکاگو سے فلاڈیلفیا کے لیے جہاز پر سوار ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔

انہوں نے مبینہ طور پر تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ وہ دو ہزار دو سے لشکرِ طیبہ کے ساتھ منسلک ہیں۔ ہیڈلے نے تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے اندر لشکرِ طیبہ سے تربیت حاصل کی ہے۔

ابتدائی طور پر ان پر ڈینمارک کے اخبار جلینڈز پوسٹن پر حملے کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا گیا تھا۔

اسی مقدمے میں ایک اور پاکستانی نژاد کینیڈین شہری طواہر حسین رانا بھی ہیڈلے کے شریک ملزم ہیں جبکہ ڈنمارک کے اخبار پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں ہیڈلی کے دو ساتھی ملزمان اب بھی امریکہ کو مطلوب ہیں جن میں پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ میجر سید عبدالرحمن ہاشم اور پاکستانی شدت پسند الیاس کشمیری شامل ہیں۔

ہیڈلے کے باپ کا تعلق پاکستان سے تھا جبکہ ان کی ماں امریکی ہیں۔ ان کا پہلے نام داؤد گیلانی تھا۔ سنہ دو ہزار چھ میں انہوں نے اسے بدل کر ڈیوڈ ہیڈلے رکھ لیا تھا۔ تفتیش کاروں کے مطابق اس کا مشورہ انہیں لشکرِ طیبہ نے دیا تھا تاکہ انہیں انڈیا میں جاسوسی کی ذمہ داریاں نبھانے میں آسانی ہو سکے۔

AL KHALID TANK PROUD OF PAKISTAN



NEOBUX

http://www.neobux.com/?r=taahaijaz