نبی اکرم (ص) کے اختیار کردہ مختلف اسلوب ) (20) نصیحت اور بار بار تخویف کے ذریعے غلطی کی شدّت کا احساس أبوبکر السلفی 0
نصیحت اور بار بار تخویف کے ذریعے غلطی کی شدّت کا احساس دلانا:
حضرت جندب بن عبد اللہ جَلی(رض) سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ(ص) نے مشرکین کے مقابلے میں مسلمانوں کا ایک لشکر روانہ فرمایا۔ دونوں لشکروں کا باہم سامنا ہوا۔(جنگ کے دوران ایسا ہوا کہ) مشرکین میں سے ایک مرد جس مسلمان کو چاہتا قتل کردیتا۔ (اس کے ہاتھ سے متعدد مسلمان شہید ہوگئے)، ایک مسلمان نے اسے غافل پاکر اس پر حملہ کیا۔ حضرت جندب(رض) نے فرمایا: صحابہ کرام فرمایا کرتے تھے کہ وہ مسلمان اُسامہ بن زید(رض) تھے ۔ جب انہوں نے اس پر تلوار اٹھائی تو اس نے (فوراً)کہہ دیا: لا الٰہ الااللہ۔ صحابی نے (پھر بھی) اسے قتل کردیا۔ (واپسی پر) ایک صحابی نے آکررسول اللہ (ص) کو (فتح کی) خوش خبری دی، آنحضرت (ص) نے ان سے حالات پوچھے، انہوں نے بتائے اور اُس صحابی کی بات بھی بتائی کہ انہوں نے یہ کام کیا۔ آنحضرت(ص) نے اُس صحابی کو بلا کر پوچھا:" تم نے اس شخص کو کیوں قتل کر دیا؟" انہوں نے عرض کیا:" اس نے مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچایااور فلاں فلاں شخص کو شہید کیا"۔ انہوں نے کئی حضرات کے نام لئے اور کہا:" میں نے اس پر حملہ کیا، اُس نے جب تلوار دیکھی تو لاَ اِلٰہَ اِلاَُ اللہ کہہ دیا"۔ رسول اللہ (ص) نے فرمایا:" پھر تم نے اسے قتل کردیا؟" انہوں نے کہا :" جی ہاں"۔ آپ (ص)نے فرمایا: " قیامت کے دن جب لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ حاضر ہوگا تو تم کیا کرو گے؟" انہوں ںے کہا:" یا رسول اللہ ! میرے لئے گناہ کی معافی کی دعا کیجئے"۔ آنحضرت(ص) نے فرمایا:" قیامت کے دن جب لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ حاضر ہوگا تو تم کیا کرو گے؟" حضور علیہ السلام بار بار یہی فرماتے رہے:" قیامت کے دن جب لاَ اِلٰہَ اِلاَّاللہ حاضر ہوگا ، تو تم کیا کرو گے؟"(صحیح مسلم کتبا الایمان باب تحریم قتل الکافر بعدان قال لاالہ الااللہ،ح:۹۷۔)
حضرت اُسامہ بن زید(رض) نے خود بھی یہ واقعہ بیان کیا ہے ،وہ فرماتے ہیں : جناب رسول اللہ (ص) نے ہمیں ایک دستہ کی صورت میں رواہ فرمایا، ہم نے صبح صبح جہینہ گاؤں حُرَقات پر حملہ کیا۔ میں نے ایک آدمی کو جالیا۔ اُس نے کہا : لاَ اِلٰہ اِلاَّ اللہ، لیکن میں نے اس پر وار کردیا۔ پھر مجھے اس بارے میں پریشانی ہوئی ۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ واقعہ بتایا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" کیا اُس نے لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ کہہ لیا تھا، پھر بھی تم نے اسے قتل کردیا؟" میں نے عرض کیا:" یا رسول اللہ! اس نے ہتھیار سے ڈر کر کلمہ پڑھا تھا"۔ آنحضرت (ص) نے فرمایا:" کیا تم نے اُس کا دل چیر کد یکھ لیا تھا کہ اُس (دل) نے کہا ہے یا نہیں؟ آپ (ص)بار بار مجھے یہی بات فرماتے رہے، حتٰی کہ میں یہ تمنا کرنے لگا کہ کاش میں اسی دن مسلمان ہوا ہوتا۔(صحیح مسلم کتبا الایمان باب تحریم قتل الکافر بعدان قال لاالہ الااللہ،ح:۹۶)
وعظ ونصیحت کے ذریعے غلطی کی اک صورت اللہ تعالیٰ کی قدرت و عظمت یا د دلانا بھی ہے۔ اس کی ایک مثال پیش خدمت ہے۔
امام مسلمؒ نے حضرت ابو مسعود بدری(رض)سے روایت کی ہے، انہوں نے فرمایا: میں اپنے ایک غلام کو کوڑا لے کر مار رہا تھا ہ مجھے اپنے پیچھے ایک آواز سنائی دی:" ابو مسعود! تجھے معلوم ہونا چاہیئے"۔ غصے کی شدت کی وجہ سے میں توجہ نہ کرسکا کہ یہ کس کی آواز ہے۔ جب وہ قریب آگئے تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ تو رسول اللہ (ص) ہیں ، جو فرما رہے ہیں:" ابو مسعود ! تجھے معلوم ہونا چاہیئے"۔ میں نے کوڑا ہاتھ سے پھینک دیا۔ ایک روایت مٰں ہے:" آنحضرت (ص) کی ہیبت کی وجہ سے کوڑا میرے ہاتھ سے گر پڑا"۔ آپ(ص) نے فرمایا: "ابو مسعود! تجھے معلوم چاہیئے کہ تجھے اس غلام پر جس قدر اختیار حاصل ہے، اللہ تعالی کو تجھ پر اس سے زیداہ قدرت حاصل ہے"۔ میں نے عرض کیا:" حضور ! آج کے بعد میں کبھی کسی غلام کو نہیں ماروں گا"۔ ایک روایت میں ہے : میں نے کہا:" یا رسول اللہ ! یہ اللہ کے لئے آزاد ہے"۔ آنحضرت (ص) نے فرمایا: " اگر تو (ا غلطی کی تلافی) نہ کرتا تو آگ تجھے جھلسا دیتی"۔ یا فرمایا:" آگ تجھے چھو لیتی۔"
صحیح مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا:" اللہ کی قسم! جتنی تجھے اس پر قدرت حاصل ہے اس سے زیادہ اللہ کو تجھ پر قدرت حاصل ہے"۔ چنانچہ انہوں نے اس غلام کو آزاد کردیا۔(صحیح مسلم، کتاب الایمان باب صحبۃ الممالیک،ح:۱۲۵۹۔)
سنن ترمذی میں حضرت ابو مسعود انصاری(رض) سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اپنے ایک غلام کو پیٹ رہا تھا، کہ مجھے اپنے پیچھے کسی کی آوا ز آئی:" ابو مسعود! جان لو۔ ابو مسعود ! جان لو"۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ(ص) تھے ۔ آپ (ص)نے فرماا:" تجھے اس پر جتنی قدرت حاصل ہے اللہ کو تجھ پر اس سے زیادہ قدرت حاصل ہے"۔ ابو مسعود(رض) نے فرمایا:" اس کے بعد میں نے کبھی اپنے کسی غلام کو نہیں مارا"۔(سنن الترمذی کتاب البروالصلۃ، باب النھی عن ضرب الخدم وشنمھم، ح۱۹۴۸ اور اس سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ صحیح مسلم حوالہ سابقہ ۔)
شیخ صالح المنجد حفظہ اللہ کی کتاب: غلطیوں کی اصلاح کا نبوی طریقہ سے ایک اقتباس
کمپوزنگ :أبوبکرالسلفی
No comments:
Post a Comment