Kitab O Sunnat

Tuesday, July 6, 2010

غزہ: عام اشیاء لے جانے کی اجازت


غزہ: عام اشیاء لے جانے کی اجازت

غزہ میں برسراقتدار حماس نے کہا ہے کہ اسرائیل کا یہ اقدام بے سود ہے
اسرائیل نے سرکاری طور پر غزہ کی ناکہ بندی میں اپنی اعلان کردہ نرمی کی تفصیل جاری کردی ہے جس کے مطابق غزہ میں عام استعمال کی اشیاء لے جانے کی اجازت دی گئی ہے تاہم تعمیراتی سامان کی نقل و حمل کو اب بھی مشروط رکھا گیا ہے اور علاقے کی برآمدات پر پابندی بھی برقرار رہے گی۔
پچھلے چار سالوں سے جاری غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی شروع سے متنازعہ رہی ہے تاہم غزہ کے فلسطینیوں کے اس محاصرے کے خلاف احتجاج کے طور پر حال ہی میں سمندر کے راستے امداد لے جانے والے کارکنوں پر اسرائیلی فوج کے حملے میں جب نو ترک شہری ہلاک ہوگئے تو اسرائیل پر عالمی دباؤ بڑھا تھا کہ وہ اس ناکہ بندی کو ختم کرے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسی دباؤ سے نمٹنے کے لیے اسرائیل نے نرمی کا اعلان کیا ہے۔ اگرچہ اسرائیل نے جن چیزوں کے غزہ میں لے جانے کی اجازت دی ہے اس میں تعمیراتی سامان شامل نہیں ہے اور اب بھی صرف اقوام متحدہ کی نگرانی میں چلنے والے منصوبوں کے لیے تعمیراتی سامان کی نقل و حرکت کی اجازت ہوگی تاہم عام استعمال کی وہ اشیاء جو اب غزہ میں لے جائی جاسکیں گی اس سے پہلے مصر سے خفیہ سرنگوں کے ذریعے علاقے میں پہنچائی جاتی تھیں۔
غزہ میں برسراقتدار حماس نے کہا ہے کہ اسرائیل کا یہ اقدام بے سود ہے۔ حماس کے ایک ترجمان سمیع ابو ظہری نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے کہا کہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ غزہ میں اشیاء لے جانے میں نرمی کی جائے بلکہ اس ناکہ بندی کا خاتمہ ہے۔
              غزہ کے لیے امدادی  قافلے پر اسرائیلی چھاپے کے بعد عالمی سطح پر جو چیخ و پکار ہوئی اس نے اسرائیل کو غزہ کی ناکہ بندی میں نرمی پر مجبور کیا ہے۔  ٹونی بلیئر

دوسری طرف امریکہ اور یورپی یونین نے اسرائیل کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے اسے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
مشرق وسطی کے لیے بین الاقوامی نمائندے ٹونی بلیئر نے بی بی سی سے بات کرتے کہا کہ غزہ کے لیے امدادی قافلے پر اسرائیلی چھاپے کے بعد عالمی سطح پر جو چیخ و پکار ہوئی اس نے اسرائیل کو غزہ کی ناکہ بندی میں نرمی پر مجبور کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی اہم ہے اور ان پر عملدرآمد کا غزہ کے عام لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثر پڑے گا۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے اس اقدام کے لیے جو وقت چنا گیا ہے وہ بہت اہم ہے کیونکہ یہ فیصلہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کے واشنگٹن کے دورے کے موقع پر کیا گیا ہے جہاں وہ امریکی صدر باراک اوبامہ سے ملیں گے۔

No comments:

NEOBUX

http://www.neobux.com/?r=taahaijaz